161

توہم پسند بھارتی ہندوﺅں نے 13 سالہ سہیل خان کو اپنا ’بھگوان ‘ بنالیا




بھارتی ہند و جو کہ توہمات کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے اور آئے دنوں کسی نہ کسی نئے ’بھگوان‘ کو ماننا شروع کردیتی ہے چاہے


وہ گائے ہو ،بندر ہو یا پھر چوہے ہوں ہندوﺅں کو ان سب میں اپنا خدا یا بھگوان نظر آتا ہے ۔اسی طرح کا ایک یہ حیران کن اور عقل سے عاری واقعہ بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے ایک گاﺅں میں بھی دیکھنے کو مل رہاہے جہاں پر ایک 13 سالہ مسلمان لڑکے


کو ہندوﺅں نے صرف اس بنیاد پر اپنا بھگوان’ ہنومان‘ کا اوتار ماننا شروع کردیا ہے کیونکہ اس لڑکے کی کمر پر بالوں کا گھچا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدھیا پردیش کے ایک گاؤں کا رہائشی 13 سالہ مسلمان بچہ جس کا نام سہیل خان ہے اس وقت تمام ہندوؤں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور لوگ اسے دور دراز علاقوں سے دیکھنے اور اپنی مرادیں لے کر آتے ہیں۔ہندو اس بچے کو اپنے بھگوان ہنومان کا دوسرا جنم مانتے ہیں۔دوسری جانب سہیل خان کے گھر چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کا


رش لگا رہتا ہے اور ہندو اپنی مرادیں پوری کرنے کیلئے بچے سے دعائیں کراتے ہیں ،جس کے صلہ میں بچے کو مختلف قسم کے تحائف اور پھلوں کی ٹوکریوں اور نقدی سے نوازا جاتا ہےس حیرا ن کن بچے کے گاﺅں والوں نے اس کا نام ہی ’بجرنگی بھائی جان‘ رکھ دیا ہے جبکہ بچہ جس سکول میں تعلیم حاصل کررہا ہے وہاں بھی اسے دوسرے بچوں کی نسبت منفرد مقام حاصل ہے اور کوئی بھی اس کے ساتھ نفرت آمیز رویہ اختیار نہیں کرتا ۔ساتذہ سمیت تمام بچے اسے ’ہنومان‘ کا اوتار سمجھتے ہوئے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ سہیل خان نے کہا کہ اسے بالوں کے گچھے کی وجہ سے جتنی عزت و تکریم مل رہی ہے وہ نہیں چاہتا کہ اب ان بالوں کو کبھی بھی کٹواﺅں۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں