132

بھارتی سپریم کورٹ کا داؤد ابراہیم کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم





نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے داؤد ابراہیم کی تمام املاک کو ضبط اور جائیداد کی قرقی کا حکم برقرار رکھا ہے۔




دائود ابراہیم کی والدہ امینہ بی اور بہن حسینہ ابرہیم پارکر کے وکیل کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔در خواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مذکورہ جائیداد اور املاک ان کی ذاتی جائیداد ہے۔ داؤد ابراہیم سے اس کا تعلق نہیں جبکہ املاک کی ضبطی اور جائیداد کی قرقی غیر قانونی ہے لہذا غیر قانونی اقدام سے انتظامیہ کو روکا جائے۔




بھارتی عدالت کے جج آر کے اگروال نے داؤد ابراہیم کی والدہ امینہ بی اور بہن حسینہ ابراہیم پارکر کے وکیل کے موقف کو تسلیم نہیں کیا۔ عدالت کا فیصلے میں کہنا ہے کہ املاک اور جائیداد داؤد ابراہیم سے حاصل کی گئیں۔سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ داؤد ابراہیم کی تمام املاک و جائیداد ضبط کر لی جائیں۔




واضح رہے کہ یہ املاک اور جائیدادوں کی کل تعداد 7 ہے جو جنوبی ممبئی میں نگپدا کے علاقے میں واقع ہیں۔ ان میں 2 جائیدادیں داؤد ابراہیم کی والدہ امینہ بی کے نام ہیں جبکہ بقیہ 5 جائیدادیں داؤد ابراہیم کی بہن حسینہ ابراہیم پارکر کے نام ہیں۔ ان جائیدادوں کو بھارت کی وزارت مال نے تقریباً 12 کروڑ روپے میں فروخت کر دیا ہے


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں