120

تاج محل اللہ کی ملکیت،وقف شدہ عمارت ہے،بھارتی سنی وقف بورڈ





نئی دہلی:بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش کے سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں جوابی حلف نامہ داخل کراتے ہوئے کہا ہے کہ تاج محل اللہ کی ملکیت ہے اور ان کے پاس اس کے وقف کیے جانے کی دستاویزات نہیں ہیں، تاہم یہ وقف شدہ عمارت ہے اس لیے اسے بورڈ کے حوالے کرنا چاہیے۔


سنی وقف بورڈ کے چیئرمین ظفر احمد فاروقی نے برطانوی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ یہ مقدمہ بہت پرانا ہے اور اب اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ظفر احمد فاروقی کا کہنا تھا کہ ملک میں قبروں اور مساجد کو قانونی طور پر وقف کی املاک تصور کیا جاتا ہے اور اس طرح تاج محل بھی اسی زمرے میں آتا ہےانہوں نے بتایا کہ بہت پہلے عرفان بیدار نام کے ایک شخص نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور یہ معاملہ 90 کی دہائی میں عدالت میں آیا تھا پھر بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی) نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں سنہ 2011 میں اپیل کی تھی ۔انہوں نے بتایا کہ تاج محل مقبرہ ہے اور وہاں شاہجہاں کا سالانہ عرس ہوتا ہے، وہاں جمعے کی نماز ہوتی ہے اور رمضان میں تراویح کی نماز ہوتی ہے ایسے میں وقف بورڈ کا اس پر حق ہونا چاہیے۔


فی الحال تاج محل کا انتظام و انصرام محکمہ آثار قدیمہ کے ہاتھوں میں ہے۔جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا اس کا انتظام محکمہ آثار قدیمہ سے لے کر وقف کے حوالے کر دینا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ اس کا انتظام تو محکمے کے پاس ہی رہنا چاہیے کیونکہ وہ اچھی طرح سے اس کام کو انجام دے رہے ہیں.وقف کے پاس ایسے وسائل نہیں کہ آثار قدیمہ کی اچھی طرح دیکھ بھال کر سکے،


لیکن اس کا استحقاق یا تشخص بورڈ کے پاس ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں وقف کی اپنی ملکیت صرف دو ہیں، ایک جس میں ان کا دفتر ہے اور دوسرا پرانا دفتر اور یہ دونوں ریاستی دارالحکومت لکھنو میں ہیں۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں