78

جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ،وزیراعظم کی مذمت،پاکستان بار کونسل کا کل ہڑتال کا اعلان





ذرائع کے مطابق پانامہ بنچ کے رکن اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کی لاہور میں رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعہ کے مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملزمان کوجلد انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے گا۔واقعے کے بعد اسلام آباد میں ججز کی سکیورٹی مزید بڑھادی گئی جبکہ ججز انکلیو میں سکیورٹی الرٹ جاری کردیا گیا ہے اورایس ایس پی جمیل ہاشمی خود سکیورٹی کی مانیٹرنگ کررہے ہیں ،غیرمتعلقہ افراد کے ججز انکلیومیں داخلے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔

ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کاحکم دیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی جبکہ وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے ملزمان کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس فائرنگ کرنے والوں کے تعاقب میں ہے۔




فائرنگ کے واقعہ پر ملک کی سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے بھی مذمت کی جارہی ہے جبکہ سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری ،عمران خان اور آصف زرداری نے بھی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتار ی کا مطالبہ کیا۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی واقعے کی مذمت کی ہے ۔




دوسر ی جانب پاکستان بار کونسل کی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کل 11 بجے سے لیکر 11:45 تک ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کل ملک بھر میں ہڑتال کریگی اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔کامران مرتضیٰ نے مزید کہا کہ ہم حکومت کو تنبیہ کرتے ہیں واقے کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی جائے جبکہ ملک بھر کے وکلاء سارا دن کالی پٹیاں باندھیں گے۔خیال رہے کہ گزشتہ شب اور آج صبح جسٹس اعجاز الاحسن کی لاہور میں رہائش گاہ پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کاواقعہ پیش آیا جس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار واقعے کی خود مانیٹرنگ کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں