113

اپنے احوال پہ ہم آپ تھے حیراں بابا





اپنے احوال پہ ہم آپ تھے حیراں بابا
آنکھ دریا تھی مگر دل تھا بیاباں بابا

یہ وہ آنسو ہیں جو اندر کی طرف گرتے ہیں
ہوں بھی تو ہم نظر آتے نہیں گریاں بابا

اس قدر صدمہ ہے کیوں ایک دل ویراں پر
شہر کے شہر یہاں ہو گئے ویراں بابا

یہ شب و روز کے ہنگاموں سے سہمے ہوئے لوگ
رہتے ہیں موج صبا سے بھی ہراساں بابا

اونچی دیواروں سے باہر نکل آئے تو کھلا
ہم نے سینوں میں بنا رکھے ہیں زنداں بابا

خوش گماں ہو کے نہ بیٹھ ان در و دیوار سے پوچھ
اہل خانہ بھی ہیں کچھ روز کے مہماں بابا

یخ ہواؤں سے مجھے آتی ہے خوشبوئے بہار
شعلۂ گل کی امیں ہے یہ زمستاں بابا

گرد باد آئیں کہ گرداب، بیاباں ہو کہ بحر
زندگی ہوتی ہے آپ اپنی نگہباں بابا

گئی رت لوٹ بھی آتی ہے ضیاؔ حوصلہ رکھ
ہم نے دیکھی ہیں سیہ شاخوں پہ کلیاں بابا



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں