157

ہم سمارٹ نہیں تھے؟۔۔۔ روف کلاسرا





وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ٹیکس ایمنسٹی متعارف کرانے کے حوالے سے کی گئی پریس کانفرنس دیکھتے ہوئے ڈپریشن طاری ہوا۔
ہم سب کتنی محنت سے اس ملک کو ناکام کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کیا خدا نے ہمیں ذہانت یا طاقت اس لیے عطا کی ہے کہ ہم اپنے سے کم ذہین اور کم وسائل کے مالک لوگوں کا استحصال کریں‘ ان کی کمائی ہوئی دولت پر ہاتھ صاف کرتے جائیں‘ اور خود کو داد بھی دیں۔ واہ ہم کتنے سمارٹ ہیں؟ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ساتھ کی گئی پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کے جوابات اور ٹیکس ایمنٹسی سکیم کے خدوخال سنتے ہوئے امریکی ادیب یوڈورا ویلٹی کے ایک ناول کے کردار کا ایک خوبصورت فقرہ یاد آیا:
If you are so smart, then why aren,t you rich…..




تو کیا یہ سب چالاکیاں زندگی میں پیسہ کمانے کے لیے ہوتی ہیں؟ جب بھی میں زرداری کے بارے میں نعرہ سنتاہوں ‘ایک زرداری سب پر بھاری‘ تو میرے ذہن میں ایک ہی بات ابھرتی ہے: زرداری صاحب کی سب محنت، ذہانت اور چالاکیاں اس ملک اور عوام کے کام کیوں نہیں آئیں؟ وہ پانچ سال تک ملک کے صدر رہے۔ دس سال سے سندھ میں ان کی پارٹی کی حکومت ہے۔ ان کی سب ذہانت، جوڑ توڑ اور چالاکیوں سے ملک اور سندھ کو فائدہ کیوں نہ ہوا؟ نواز شریف اور ان کے بچے اتنے سمارٹ تھے تو وہ سب اس ملک کو اس طرح کیوں نہیں چلا سکے‘ جیسے انہوں نے اپنے ذاتی کاروبار چلائے جو بقول ان کے بھٹو سے لے کر بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف تک سب نے برباد کر دیا لیکن پھر بھی ان کی دنیا کے پانچ براعظموں میں جائیدادیں پھیل گئیں، لندن میں اربوں ڈالرز کے فلیٹس خرید لیے اور پاکستان میں پچاس کے قریب کارخانے بھی موجود ہیں۔ اگر ہمارے لیڈرز اتنے سمارٹ اور سمجھدار ہیں تو پھر ان کی سمجھداری کا پورے ملک اور معاشرے کو فائدہ کیوں نہیں ہوا؟ ایک بھارتی فلم کا ڈائیلاگ یاد آیا: اپنے بچے کو تکلیف میں دیکھ کر تو بکری بھی روتی ہے، اصل بات تو یہ ہے کہ دوسرے کے بچے کو تکلیف میں دیکھ کر کتنے لوگ اس درد کو محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کے لیے دنیا کے پانچ براعظموں میں جائیدادیں بنا لیں‘ لیکن قوم کے بچوں کا حشر ہمارے سامنے ہے۔
تو کیا واقعی یہ سب لوگ چالاک ہیں؟ بہت ذہین ہیں کہ انہوں نے امریکی محاورے پر چلتے ہوئے بہت دولت کما لی ہے‘ کیونکہ سمارٹ ہونے کا مطلب تو بہت زیادہ دولت ہے۔ دولت کمانا کوئی جرم نہیں۔ مان لیتے ہیں‘ سب امیروں نے دولت بنانی ہے‘ لیکن کس قیمت پر؟ اب جن لوگوں کو رعایت دی گئی ہے کہ وہ پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں‘ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا‘ تو کیا وہ دراصل ان لوگوں پر ہنس نہیں رہے جو ایمانداری سے ٹیکس دیتے رہے اور جنہوں نے حرام کی دولت نہیں کمائی؟ پاکستان کے لوگوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ تم سب گھامڑ تھے۔ بیوقوف تھے۔




تم سمارٹ نہیں تھے اور نہ ہی تمہیں دولت کمانا آتی تھی‘ ورنہ تم بھی یہ سب کام کر سکتے تھے۔ تم تو ایک لٹر پٹرول پر چالیس روپے ٹیکس دیتے ہو۔ ماچس کی ڈبیا ہو یا پانی کی بوتل‘ ہر چیز پر ٹیکس دیتے ہو۔ ہمیں دیکھو‘ ہم نے ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیا اور کروڑوں اربوں کی جائیدادیں بنا لیں۔ اگر تم عام پاکستانی بھی سمارٹ ہوتے تو پہلے کسی محکمے میں سرکاری بابو لگتے، سیاستدانوں کے ساتھ مل کر کنٹریکٹس میں بڑے بڑے کمیشن لیتے، کھل کر رشوت لیتے، مظلوموں کی جیبیں کاٹتے اور پھر دولت اتنی آ جاتی کہ پورے پاکستان میں رکھنے کو جگہ نہ ملتی۔ پھر آپ منی لانڈرنگ کے طریقے تلاش کرتے۔ کوئی ایان علی تلاش کرتے یا پھر اکنامک ریفارم ایکٹ لاتے تاکہ سب پیسہ بینکوں کے ذریعے باہر لے جاتے یا پھر ہنڈی کے ذریعے آپ پیسہ باہر بھیجتے‘ وہاں آف شور کمپنیاں بناتے اور یوں اپنے ملک کا پیسہ آپ دبئی، لندن، نیویارک یا سپین لے جاتے۔ وہاں کی اکانومی میں جان ڈالتے اور ان ملکوں کی ترقی میں رول ادا کرتے۔ عام پاکستانی‘ ہمارے جیسے‘ سمارٹ نہیں تھے لہٰذا انہیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ اپنے جیسے لوگوں کے اعتماد کو کیسے دھوکا دینا ہے۔ اپنی دھرتی کو کیسے لوٹنا ‘اور پیسہ بنانا ہے۔ شاید ان سرکاری افسران نے بھی امریکی محاورہ پڑھ رکھا تھا کہ صرف سمارٹ لوگ ہی امیر ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے بھی کھل کر امیر ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان دونوں طبقات نے سوچا‘ صرف وہی سمارٹ ہیں‘ باقی قوم بدھو ہے جو دن رات محنت کرکے انہیں ٹیکس ادا کرتی ہے تاکہ حکمرانوں کی تنخواہیں ادا ہوں اور وہ اس پر عیاشی کرتے ہیں۔
اگر ہمارے ریگولیٹری ادارے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سب سے بڑھ کر وہاں بیٹھے بیوروکریٹس اپنا کام پورا کرتے تو کیا آ ج پاکستانیوں کے دو سو ارب ڈالرز سوئس بینکوں میں پڑے ہوتے یا پھر آٹھ دس ارب ڈالرز کی جائیدادیں صرف دبئی میں خرید لی جاتیں؟ یا پھر لندن ہمارے سیاستدانوں کی جائیدادوں سے بھرا ہوا ہوتا؟ اگر ہمارے حکمران یہ سوچتے کہ انہیں اس ملک پر اعتبار کرنا ہے‘ اور ان کا جینا مرنا اس ملک میں ہے تو یہ اربوں ڈالرز باہر لے جاتے؟ اگر کھیت کا مالک ہی یہ توقع نہ رکھے کہ اسے اس کھیت سے کچھ ملے گا تو اس کے ملازم کیسے کھیت پر محنت کریں گے؟ جب ہمارے بیوروکریٹس اور سیاستدان یہ سوچ بیٹھے کہ اس ملک کا مستقبل نہیں ہے‘ لہٰذا دھڑادھڑ بیرون ملک شہریت لو‘ بچے وہاں شفٹ کر دو۔ کمائو پاکستان سے اور خرچ کرو لندن، امریکہ اور یورپ میں‘ تو پھر کیسے ہم آگے بڑھتے؟ ایک دوڑ لگ گئی بیرون ملک شہریت لینے والوں کی۔ سب سے زیادہ اس دوڑ میں ہمارے سرکاری افسران شامل ہوئے جن کا کام تھا کہ وہ اپنی محنت اور ذہانت سے ملک کو بدلتے اور لوگوں کو ایسی سہولتیں فراہم کرتے کہ وہ کبھی سوچتے بھی نہ کہ اپنا پیسہ اور شہریت باہر لے جائیں۔ گورننس ان لوگوں کی وجہ سے برباد ہوئی ہے۔ اگر وہ اس ملک کو اپنا سمجھتے اور باہر جائیدادیں نہ بناتے تو شاید آج یہ سب ہم نہ دیکھتے۔ ہم سمجھتے رہے کہ اس ملک کے مسائل کا ذمہ دار جاگیردار اور زمیندار طبقہ ہے۔ ہمارا خیال تھا شہروں کے اندر سے مڈل کلاس اور تاجر کلاس اگر ابھر کر سامنے آئی اور اسمبلیوں میں پہنچ گئی تو ملک کی تقدیر بدل گئی۔ پھر کیا ہوا… بدل گئی؟ اس مڈل کلاس نے جو حشر کراچی میں کیا وہ آپ کے سامنے ہے۔ جو کچھ تاجر اور بزنس مین ہمارے ساتھ کر رہے ہیں وہ ہم نے دیکھ بھی، سن بھی لیا اور بھگت بھی لیا۔
وزیر اعظم کو سنتے ہوئے احساس ہوا کہ لیڈرشپ کا معیار کہاں سے کہاں جا گرا ہے۔ مجھ سے ایمانداری سے پوچھتے ہیں تو میرے دل میں قائد اعظم کے لیے زیادہ احترام ان کے معالج کرنل الٰہی بخش کی انگریزی میں لکھی گئی کتاب ‘قائد اعظم کے آخری ایام‘‘ پڑھ کر بڑھا۔ میرے بس میں ہوتا تو اس کتاب کو سکول سے لے کر یونیورسٹی تک لازمی کورس کا حصہ بناتا کہ بچوں کو پتہ چلتا‘ لیڈرشپ کیا ہوتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کا شاید مجھے نقصان ہوا ہے‘ اور اکثر ایسے ہی ہوتا ہے‘ جب آپ عظیم لوگوں کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ ان عظیم لوگوں کا کردار کھل کر سامنے آتا ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ آپ ان سے متاثر نہ ہوں۔ آپ کے اندر خواہش ابھرنا شروع ہو جاتی ہے کہ اگر ملک کا بانی ایسا تھا تو پھر ان کی کرسی پر بیٹھنے والے اس کردار کے مالک کیوں نہیں ہیں؟ میرے جیسے آئیڈیلسٹ مزید آئیڈیل ازم کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی زندگی ایک عذاب بننا شروع ہو جاتی ہے۔ آپ ہر وقت نہ چاہتے ہوئے بھی موازنہ شروع کر دیتے ہیں‘ اور یہ موازنہ آپ کو آج کے زمینی حقائق سے دور لے جاتا ہے۔ پھر آپ کو کہا جاتا ہے کہ یہاں رہنا ہے تو پھر خوابوں کی دنیا سے باہر نکلیں۔ کیسے نکلیں؟ کیا جو اس ملک کو لوٹ نہ سکے، لندن، دبئی، نیویارک یا دنیا کے پانچ براعظموں میں حرام کی دولت سے جائیدادیں نہ خرید سکے، سوئس بینکس نہ بھر سکے وہ سمارٹ نہیں کیونکہ جو سمارٹ نہیں ہوتا وہ دولت نہیں کما سکتا؟




تو ہم سب اس لیے ان لٹیروں کے ہاتھ لٹتے رہیں گے کیونکہ وہ سمارٹ ہیں، ہم نہیں؟ اب طے ہے کہ جو اپنے ملک اور بائیس کروڑ کی آبادی میں سے دس کروڑ سے زائد ان پڑھ اور اتنے ہی غریبوں کا حصہ نہیں لوٹ سکتا، وہ سمارٹ کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔ سمارٹ لقب کے حقدار وہی ہیں جو اپنوں کو ہی لوٹ لیں۔ اپنے گھر پر ڈاکا ڈالیں؟
وزیر اعظم عباسی اور مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس سن کر تو یہی لگا۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں