142

مسافروں کو ہتھکڑی لگا کر قید میں رکھنے والا عجیب ترین ہوٹل

ہتھ کڑی، تاریک بیرکس، قیدیوں جیسا لباس، جامہ تلاشی اور تفتیش یہ سب کسی جیل کا منظر نامہ نہیں بلکہ ایک لگژری ہوٹل کا احوال ہے جہاں ٹھہرنے کے خواہش مند افراد کو کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کمزور دل کے حامل ہیں تو کسی اور ہوٹل میں وقت بسر کریں۔

انہی خاصیتوں کے باعث اس ہوٹل کا نام ’لی پاجا پرزن ہوٹل (Liepaja Prison Hotel) ‘ رکھا گیا ہے جسے 1900ء میں روس کے بحری فوج نے کسی جرم میں پکڑے گئے فوجیوں کو سزا دینے کے لیے تعمیر کیا تھا۔ پہلے پہل اس کا نام کوارٹر کارڈز رکھا گیا تھا اور یہاں اُن فوجیوں کو پابند سلاسل رکھا جاتا تھا جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث پائے جاتے تھے
بعد ازاں اس عمارت کو مخالف فوج کے اہل کاروں، غیر ملکی جاسوسوں اور خطرناک ملزموں سے تفتیش کے لیے استعمال کیا جانے لگا جہاں قیدیوں پر تشدد بھی کیا جاتا تھا جس کے باعث جلد ہی یہ عمارت ایذا رسانی کے مرکز کے طور پر مشہور ہو گئی تاہم 1997ء میں اسے ’قیدیوں کا ہوٹل‘ بنا دیا گیا اور تب سے اب تک یہاں مسافروں کو پرانی عمارت جیسے قید خانے کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔روس کے حصے بخرے ہونے کے بعد 1997ء میں اس عمارت کو ہوٹل بنایا گیا لیکن خاص اور منفرد بات یہ ہے کہ عمارت کے بیرکس، تفتیش گاہ کو برقرار رکھا گیا ہے حتی کے ہوٹل کے عملے نے بھی پولیس کی وردی پہنی ہوتی ہے۔ یعنی یہ وہ جیل ہے جہاں قیدی خود قید ہونے آتا ہے اور اس کے لیے ادائیگی بھی کرتا ہے۔چیک ان کرنے والے افراد کو ہتھکڑی لگا کر پولیس وردی میں ملبوس ہوٹل کا ملازم تاریک راہداریوں سے گزار کر کمرے یعنی بیرک میں لاتا ہے جہاں ایک لوہے کا پلنگ اور چھوٹی سے کھڑکی ہوا اور روشنی کے لیے موجود ہوتی ہے۔ مسافروں کو جواب قیدی کا روپ دھار چکے ہوتے ہیں ’جیل‘ کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر سزا بھی دی جاتی ہےمسافر خود کو 1900ء کی جیل میں محسوس کرتے ہیں اور ان مظالم سے آگاہی حاصل کرتے ہیں جو اس وقت مخالف فوجیوں پر ڈھایا جاتا تھا۔ یہ تاریخ کا وہ عجائب خانہ ہے جہاں کے در و دیوار میں جنگ کی بو اور قیدیوں کی آہ و بکا دبی ہوئی ہے اور جس کے ہر حصے پر انسانی تاریخ کا المیہ کندہ ہے اور جو جنگی ماحول کی حقیقی ترجمانی کرتا ہےہوٹل کے بروشر میں کمزور دل والے افراد سے معذرت کی گئی ہے کیوں یہاں صرف جیل جیسا ماحول ہی نہیں بلکہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ تشدد، جبر اور سخت قوانین نے ہوٹل میں حقیقی جیل کے رنگ بھر دیئے ہیںں آنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ ہم اس ہوٹل میں تاریخ کو اس طرح پڑھ پاتے ہیں جیسا کسی کتاب یا تحقیقی مقالے میں درج نہیں ہے۔ یہاں ایسے احساسات کا سامنا ہوتا ہے جو لفظ یا قلم نہیں دلا پاتے بلکہ یہ حقیقی مناظر ہمیں آپ بیتی جیسے محسوس ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں