100

جاوید چوہدری کے کالم نے تو سب کی آنکھیں کھول دی سب حیران





ہ مریضوں کےلئے پریشان تھے‘ وہ کہہ رہے تھے ہم نے ہسپتال باقاعدہ سٹارٹ نہیں کیا لیکن ہمارے پاس روزانہ پانچ چھ سو مریض آ جاتے ہیں‘ یہ بے چارے بسوں اور ٹریکٹروں پر آتے ہیں اور ہمارے گیٹ کے سامنے لیٹ جاتے ہیں‘ مجھ سے ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی“ میں نے ان سے پوچھا ”فیصل آباد میں سب سے زیادہ بیماری کون سی ہے“ ان کا کیا جواب تھا؟ میں اس طرف آنے سے پہلے آپ کو اس مکالمے کی بیک گراﺅنڈ بتاتا چلوں۔

میں سیلانی ٹرسٹ کی دعوت پر فیصل آباد گیا‘ مولانا بشیر فاروقی کراچی سے تشریف لائے تھے‘ سیلانی ٹرسٹ خدمت کی حیران کن داستان ہے‘ مولانا بشیر فاروقی میمن کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں‘ کراچی میں باردانے کا کام کرتے




تھے‘ اللہ تعالیٰ سے لو لگی اور یہ1999ءمیں کاروبار سے خدمت میں آ گئے‘ حضرت خود فرماتے ہیں ”میں نے پہلے دن ضرورت مندوں کو ساڑھے تین سو روپے کا کھانا کھلایا‘ آج ہم روزانہ 60 لاکھ روپے کا کھانا کھلا رہے ہیں‘ ہم کراچی میں روز 700 بکرے ذبح کرتے ہیں“ سیلانی پاکستان کا واحد ٹرسٹ ہے جو چندے کی درخواست نہیں کرتا لیکن لوگ انہیں اس کے باوجودروزانہ ایک کروڑ روپے دیتے ہیں ‘ یہ لوگ اس رقم سے درجنوں منصوبے چلا رہے ہیں‘ دستر خوانوں کی تعداد100 ہو چکی ہے‘ یہ وہاںایک لاکھ 25 ہزار لوگوں کو روزانہ کھانا کھلاتے ہیں‘ مولانا بشیر فاروقی نے چندے کی اپیل نہ کرنے کی ایک عجیب وجہ بیان کی‘ فرمایا ”میں نے خدمت کا کام شروع کیا تو میرے پاس روزانہ سینکڑوں غریب لوگ آتے تھے‘ میں نے ایک دن اللہ تعالیٰ سے دعا کی یا باری تعالیٰ میں ہاتھ نہیں پھیلا سکتا‘ آپ اگر غریب بھجواتے ہیں تو آپ مہربانی فرما کر امیر بھی بھیج دیا کریں تاکہ میں غرباءکی خدمت کر سکوں‘ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمالی اور وہ دن ہے اور آج کا دن ہے اللہ تعالیٰ غریبوں کے ساتھ امیر بھی بھجوا دیتا ہے ا ور ہمیں ہماری ضرورت کے مطابق وسائل مل جاتے ہیں“ سیلانی
ٹرسٹ کراچی کے علاوہ ملک کے 8 شہروںمیں کام کر رہا ہے‘ ان شہروں میں فیصل آباد بھی شامل ہے‘یہ لوگ نوجوانوں کو کمپیوٹر کی مفت تعلیم بھی دیتے ہیں‘ اتوار کو فیصل آباد سٹیڈیم میں ساڑھے تین ہزاربچوں کا ٹیسٹ تھا‘ یہ بچے سلیکشن کے بعد ”موبائل ایپلی کیشنز“ کی مفت ٹریننگ لیں گے اور یوں یہ چند ماہ میں اپنے قدموں پر کھڑے ہو جائیں گے‘ سیلانی ٹرسٹ فیصل آباد میں صاف پانی کے پلانٹس بھی لگا رہا ہے‘ یہ لوگ 17 پلانٹس لگا چکے ہیں اور یہ مزید بھی لگانا چاہتے ہیں‘ میں ان لوگوں سے جب بھی ملتا ہوں‘ مجھے ان کا جذبہ حیران کر دیتا ہے‘یہ حقیقتاً وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے یہ ملک چل رہا ہے‘ میں فیصل آباد میں بھی اس تحیر کا شکار تھا‘ ہم اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔

فیصل آباد میں ہمارے میزبان ہمیں ایک زیر تکمیل ہسپتال میں لے گئے‘ یہ ہسپتال ایمٹیکس گروپ نے بنایا‘ گروپ کے بانی حاجی محمد افتخار مرحوم تھے‘ یہ فیصل آباد کی سوترمنڈی میں بینک منیجر تھے‘ حاجی صاحب نے نوکری چھوڑی‘ کاروبار شروع کیا‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور حاجی صاحب کا گروپ ٹاپ فائیو گروپس میں شامل ہو گیا‘ یہ ملک کے سب سے بڑے ایکسپورٹرز میں بھی آگئے لیکن پھر یہ گروپ بھی پاکستان کے دیگر گروپوں کی طرح زوال کا شکار ہوگیا‘

دنیا کی 90 فیصد کمپنیاں غیرمعمولی ترقی (گروتھ) کی وجہ سے بند ہوتی ہیں‘ مالکان ترقی کی دوڑ میں اتنے آگے آ جاتے ہیں کہ یونٹس اور ملازمین پیچھے رہ جاتے ہیں‘ یہ لوگ اپنی پیداواری صلاحیت سے زیادہ آرڈر بھی لے لیتے ہیں اور یہ غلطی پورے گروپ کو لے کر بیٹھ جاتی ہے‘ ایمٹیکس کے ساتھ بھی یہی ہوا‘ گروپ میں بینکوں‘ تاجروں اور سوترمنڈی کے شیخوں کے اربوں روپے لگے ہوئے تھے‘ سرمائے کا یہ بوجھ پورے گروپ کو لے کر بیٹھ گیا یوں فیکٹریاں بند ہو گئیں‘

جائیدادیں بک گئیں اور اثاثے منجمد ہو گئے‘ حاجی افتخار صاحب کے تین صاحبزادے ہیں‘ یہ تینوں گروپ کے ”ری وائیول“ کےلئے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں‘ ان لوگوں نے جڑانوالہ روڈ پر اپنی پرانی فیکٹری میں ساڑھے پانچ سو بیڈ کا ہسپتال اور میڈیکل کالج بنا دیا ہے‘ حاجی صاحب مرحوم کے بڑے صاحبزادے خرم افتخار کا خیال تھا اگر یہ ہسپتال اور یہ میڈیکل کالج چل گیا تو یہ ایک سال میں اپنے تمام خسارے پورے کر لیں گے‘ یہ اپنے تمام قرض بھی ادا کر دیں گے‘ میں ان کے اس دعوے سے اتفاق کرتا ہوں‘

فیصل آباد میں اتنی بیماریاں ہیں کہ یہ ہسپتال چھ ماہ میں اپنے قدموں پر کھڑا ہو جائے گا‘ پوری دنیا میں تعلیم اور صحت بری سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے‘ دنیا کی تمام بڑی یونیورسٹیاں ارب پتی جاگیرداروں‘ صنعت کاروں اور تاجروں نے اپنی زمینیں اور فیکٹریاں بیچ کر بنائیں‘ دنیا میں پرائیویٹ ہسپتال بھی مشنری اور مخیر حضرات بناتے ہیں اور یہ ادارے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کےلئے سو سو سال لگا دیتے ہیں لیکن آپ پاکستان میں کوئی تعلیمی ادارہ بنائیں‘ آپ کوئی کلینک یا کوئی ہسپتال کھول لیں‘

آپ دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی ہو جائیں گے‘ پاکستان میں میڈیکل کالج سونے کی کان ہیں‘ آپ میڈیکل کالج بنائیں اور نوٹ گننے کےلئے مشینیں لگا لیں اور آپ اگر سمجھ دار ہیں تو آپ تعلیمی اداروں‘ ہسپتالوں اور میڈیکل کالجز کی چین بنائیں اور آخر میں ان کی حفاظت کےلئے ایک اخبار اور ایک ٹیلی ویژن چینل بنا لیں‘ آپ کو کوئی شخص ارب پتی ہونے سے نہیں روک سکے گا۔میں اب خرم افتخار کے ساتھ مکالمے کی طرف آتا ہوں‘میں نے ان سے پوچھا ”فیصل آباد میں کون سی بیماری سب سے زیادہ ہے“ جواب دیا ”ہیپاٹائٹس سی‘ فیصل آباد کے لاکھوں لوگ اس موذی مرض میں مبتلا ہیں“




میں نے عرض کیا ”بیماری کی وجوہات کیا ہیں“ جواب دیا ”آلودہ گندہ پانی“ میں نے پوچھا ”اور پانی کس نے گندہ کیا“ وہ چپ ہو گئے‘ میں نے دوبارہ پوچھا تو وہ بولے ”فیصل آباد کے کارخانوں نے“ میں نے مسکرا کر عرض کیا ”سر پھر آپ بھی اس بحران کے ذمہ داروں میں شامل ہوتے ہیں“ وہ خاموش رہے‘ میں نے عرض کیا” فیصل آباد میں بارہ سو فیکٹریاں ہیں‘ یہ فیکٹریاں پچاس سال سے پانی کے ذخائر میں کیمیکل شامل کر رہی ہیں چنانچہ فیصل آباد کے لوگ ہیپاٹائٹس‘ ٹی بی‘ جلد اور کینسر کے مریض بن چکے ہیں‘

فیکٹری مالکان ظالم ہیں‘ یہ لوگ ڈالر کماتے وقت ایک لمحے کےلئے بھی یہ نہیں سوچتے ملک میں کتنے لوگ اندھے‘ بہرے اور گونگے ہورہے ہیں‘ ملک میں کینسر کے کتنے مریض اکٹھے ہو رہے ہیں‘ کتنے لوگ پھیپھڑوں‘ دل‘ گردوں اور جگر سے محروم ہو چکے ہیں اور کتنے لوگ نفسیاتی مریض بن رہے ہیں“ وہ مسکرا کر بولے ”ہم نہیں‘ حکومت ذمہ دار ہے‘ یہ حکومت کا کام تھا“ میں نے عرض کیا ”آپ درست فرما رہے ہیں‘ تعلیم‘ تربیت‘ پانی اور ہسپتال حکومتوں کی ذمہ داریاں ہوتے ہیں

لیکن دولت کی حرص نے ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے اتنے مریض پیدا کر دیئے ہیں کہ ہماری حکومتیں اگر ان کے علاج میں جت جائیں تو ملک کا سارا ترقیاتی بجٹ خرچ ہو جائے گا لیکن مریض بحال نہیں ہو سکیں گے“ میں خرم صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر میں فیل ہوگیا‘ میں دل میں سوچتا رہا ہم لوگ کتنے ظالم ہیں‘ ہم لوگوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں‘ ہم تھوڑے سے منافع اور اس عارضی زندگی کی چند لگژریز کےلئے کتنی زندگیاں کھا گئے ہیں اور کتنی روزانہ کھا رہے ہیں‘

میں ایمٹیکس سے باہر نکلا تو مجھے ملتان کے ایک سیٹھ صاحب یاد آ گئے‘ وہ چمڑے کا کام کرتے تھے‘ ان کی ٹینری کی وجہ سے دو گاﺅں معذور ہو گئے‘ سیٹھ صاحب کے کاروبار کو زوال آیا تو انہوں نے علاقے میں ہسپتال بنا دیا‘ وہ پہلے نوٹ کمانے کےلئے لوگوں کو بیمار کرتے تھے اور وہ بعد ازاں لوگوں کا علاج کر کے نوٹ کماتے رہے لیکن پھر ان کا کیا انجام ہوا؟ وہ خود کینسر کے ہاتھوں مر گئے اور اولاد جائیداد کےلئے لڑ لڑ کرفنا گئی‘ ایک بیٹے نے دوسرے کو قتل کر دیا‘ ایک مر گیا‘

دوسرا کچہریوں میں روز مرتا اور روز جیتا ہے‘ بیٹی کو طلاق ہو گئی‘ وہ گھر چلانے کےلئے اب سکول میں پڑھاتی ہے‘ پیچھے رہ گئی پراپرٹی تو وہ بینکوں نے ضبط کر لی ہے‘ سیٹھ صاحب کا ہسپتال بھی اب چندے سے چلتا ہے۔میری حکومت اور چیف جسٹس سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر ملک میں جاری صنعتی دہشت گردی پربھی توجہ دیں‘ آپ فیکٹریوں کو کم از کم اتنا پابند ضرور کر دیں یہ جب تک ویسٹ مینجمنٹ کا پلانٹ نہ لگا لیں‘ یہ جب تک فضائی آلودگی کے خاتمے کا بندوبست نہ کر لیں‘

یہ جب تک پورے علاقے کےلئے صاف پانی کا انتظام نہ کر لیں اور یہ جب تک علاقے کےلئے فری ہسپتال نہ بنائیں اس وقت تک انہیں فیکٹریاں لگانے اور چلانے کی اجازت نہ ہو‘ یہ لوگ عوام کو صاف پانی‘ صاف ہوا اور جسمانی صفائی کی تربیت دینے کے بھی پابندہوں‘ یہ مزدوروں کو بھی ٹریننگ دیں اور یہ فیکٹری کے دائیں بائیں موجود لوگوں کو بھی اور میری صنعت کاروں سے بھی درخواست ہے آپ بھی خدا خوفی کریں‘ آپ اگر دنیا میں مریض چھوڑ کر جائیں گے تو یہ مریض حشر تک آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے‘

ان کی آہیں آپ کی قبروں کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیں گی چنانچہ آپ مہربانی کریں‘ آپ پیسے کی ہوس میں لوگوں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں‘ آپ ویسٹ ڈسپوزل کا باقاعدہ بندوبست کریں ورنہ دوسروں کے ساتھ ساتھ آپ کے بچے بھی زندہ نہیں رہیں گے کیونکہ جب بیماری آتی ہے تو پھر یہ چھوٹے گھر دیکھتی ہے اور نہ ہی اونچے محل‘ یہ سب انسانوں کے ساتھ برابرسلوک کرتی ہے لہٰذا آپ خدا کےلئے خدا سے ڈریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں