139

آئی بی اور آئی ایس آئی کو شامل کیوں نہیں کیا گیا؟





لاہور (نیوز ڈیسک) ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل ٹیپو کی پراسرار ہلاکت پر ان کے گھر والوں نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسران کو شامل کرنے پر اصرار کیا تھا لیکن انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا، یاد رہے کہ آر پی او ملتان محمد ادریس کی سربراہی میں قائم کی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے سابق ڈی سی گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو کی موت کو خودکشی قرار دیا ہے،اس حوالے سے آر پی او محمد ادریس نے ایک قومی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ کا




انہوں نے ٹیم کے ہمراہ تفصیلی ملاحظہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے اور فرانزک ٹیسٹ کے لیے نمونے بھی لاہور بھجوائے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا جائزہ لیا گیا اس کے علاوہ ڈی سی ہاؤس کے تمام ملازموں کے بیانات بھی حاصل کیے گئے۔ آر پی او محمد ادریس نے کہا کہ دوران تفتیش متعدد مشکوک افراد کے پولی گرافک ٹیسٹ بھی کروائے گئے اس کے علاوہ ٹی وی اینکر کو بھی بیان کے لیے بلایا لیکن وہ نہ آئے، انہوں نے کہا کہ تمام شواہد اکٹھے کرنے کے بعد ثابت ہوتا ہے کہ سہیل احمد ٹیپو کو قتل نہیں کیا گیا، سہیل احمد ٹیپو کے خاندان کی جانب سے تفتیش پر اتفاق کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی فیملی قتل کا شبہ ظاہر کر رہی تھی جس پر ان سے ثبوت مانگے گئے اور مشتبہ افراد سے تحقیقات بھی کی گئیں تاہم کوئی ٹھوس ثبوت حاصل نہیں ہو سکا، آر پی او محمد ادریس نے کہا کہ سہیل احمد کی فیملی کو تفصیلی بریف کیا ہے اور اس واقعہ کی تفصیلی رپورٹ پنجاب حکومت کو بھیج دی ہے۔ دریں اثناء واضح رہے کہ اس سے قبل ڈی سی گوجرنوالہ سہیل احمد ٹیپو کی پراسرار موت سے قبل کئی افسران ڈپریشن میں مبتلا ہو کر موت کو گلے لگا چکے ہیں۔ جواں سال ڈی سی گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو کی پراسرار موت تاحال معمہ بنی ہوئی ہے۔ ان کی لاش ڈی سی ہاؤس گوجرنوالہ میں ان کے کمرے میں پنکھے کے ساتھ لٹکتی ہوئی پائی گئی۔ان کی گردن میں پھندا لگا ہوا تھا جبکہ ہاتھ پیچھے کو بندھے ہوئے تھے۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے سہیل احمد ٹیپو کی موت کو خودکشی ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گردن اور ہاتھوں پر نشانات موجود ہیں جو کہ کسی رسی اور تار کے ہو سکتے ہیں۔سہیل احمد ٹیپو سے پہلے کئی افسران ڈپریشن میں مبتلا ہو کر موت کو گلے لگا چکے ہیں ان افسران میں ڈی پی او ننکانہ صاحب شہزاد وحید، اے آئی جی اسلام آباد اشعر حمید، اے ایس پی پشاور جہانزیب کاکڑ شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان افسران نے ڈپریشن اور گھریلو حالات سے دلبرداشتہ ہو کر موت کو گلے لگایا۔سہیل احمد ٹیپو سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ ڈپریشن کے مریض تھے اور گزشتہ دو ماہ سے نفسیاتی علاج کرا رہے تھے۔ سہیل احمد ٹیپو کے بیج فیلو افسران گریڈ 19میں ترقیاب ہو چکے ہیں جبکہ سہیل احمد ٹیپو تاحال گریڈ 18میں ہی تھے۔ ان سے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ ایماندار اور میرٹ پر کام کرنے والے فرض شناس افسر تھے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق سہیل احمد ٹیپو طویل عرصہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ بھی فرائض سر انجام دیتے ہیں جہاں وہ ایوان وزیراعلیٰ میں کام کرتے تھے۔ سہیل احمد ٹیپو سے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے وہ مالی مشکلات کا شکار تھے۔واضح رہے کہ سہیل احمد ٹیپو کی لاش ان کے کمرے میں سب سے پہلے ان کی والدہ نے دیکھی۔ سہیل احمد ٹیپو کی موت کے بعد ان کے ماموں کی مدعیت میں قتل کا پرچہ درج کیا گیا ہے۔سہیل احمد ٹیپو کی لاش کا پوسٹمارٹم کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر گلزار نے نجی ٹی وی نائنٹی ٹو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سہیل احمد ٹیپو کی گردن پر کپڑے کے نہیں بلکہ تار کے نشانات موجود ہیں۔ ان کے ہاتھ تار کے ساتھ مضبوطی سے بندھے ہونے کے نشانات بھی ان کی گلائیوں اور بازوں پر موجود ہیں۔ڈاکٹر گلزار کا کہنا تھا کہ خودکشی کے معاملے میں عموماََ ایسا نہیں ہوتا،ڈاکٹر گلزار کا کہنا تھا کہ 5سینئر ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہمراہ انہوں نے سہیل احمد ٹیپو کی لاش کا پوسٹمارٹم کیا ہے اور لاش کا نہایت باریک بینی سے سر سے پاؤں تک معائنہ کیا ہے۔ ڈاکٹر گلزار نے انکشاف کیا کہ سہیل احمد ٹیپو کی گردن پر زخم کے نشانات موجود تھے جبکہ بائیں کلائی پرباندھے جانے کی وجہ سے دو نشانات موجود تھے اور دائیں کلائی پر ایک زخم کا نشان پایا گیا۔ اس کے علاوہ سہیل احمد ٹیپو کے جسم پر کسی اور جگہ کوئی نشان یا زخم نہیں دیکھا۔ ڈاکٹر گلزار کا کہنا تھا کہ جو بندہ خودکشی کرتا ہے وہ پہلے اپنے ہاتھ نہیں باندھ سکتا، عام طور پر ایسا مشاہدہ میں بھی نہیں آیا کہ ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہوں اور خودکشی بھی کر لی گئی ہو۔ ڈاکٹر گلزار نے ڈی سی گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو کی موت کو پراسرار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاش سے ٹشوز کے سیمپلز لے لئے ہیں جنہیں فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھجوائے جا رہے ہیں اور جیسے ہی وہاں سے رپورٹ آئی ہم سب میڈیا کے ساتھ شیئر کرینگے۔ خیال رہے کہ سہیل احمد ٹیپو کے ماموں کی جانب سے تھانہ سول لائن میں جو مقدمہ درج کروایا گیا ہے اس میں بھی یہی موقف اختیار کی گیا ہے کہ ان کے بھانجے کو ناحق قتل کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں