178

پرانی فلموں کے ہیرو میاں صاحب خود ہوتے تھےاور آج کی فلم کے ولن ہیں

(جارید چوہدری ) آج میاں نواز شریف نے نیب کورٹ کے سامنے اپنی تیرہویں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک فلم کا ذکر کیا ،وہ فلم کون سی تھی‘ یہ میاں نواز شریف کو یاد ہے اور نہ ہی عوام کو ۔۔لیکن انڈیا کی ایک بہت ہی مشہور فلم تھی گجنی‘ یہ پورے ملک کو یاد ہے (اس) فلم کا ہیرو ’’شارٹ ٹرم میموری لاس‘‘ کا شکار تھا‘ وہ ہر بات چند منٹ بعد بھول جاتا ہے اور وہ (اس) بات کو یاد رکھنے کیلئے اپنی جیب میں تصویریں رکھتا تھا‘ ہمارے سیاستدان بھی گجنی کے ہیرو ہیں ۔۔ لیکن یہ (فل) کی بجائے ہاف شارٹ ٹرم میموری لاس کا شکار ہیں‘یہ ہر وہ بات جلد بھول جاتے ہیں جو ۔۔ان کے مفاد کے خلاف ہوتی ہے اور یہ ہر وہ بات آخری سانس تک یاد رکھتے ہیں جو ۔۔ان کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے‘ میاں نواز شریف کی پوری زندگی ۔۔اس ہاف میموری لاس پر مبنی ہے‘ صدر غلام اسحاق خان نے 1990ء میں کرپشن کے الزامات پر بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کی‘ میاں صاحب نے صدر کے اقدام کی تعریف کی‘ (اسی) صدر نے انیس سو ترانوے میں (انہی) الزامات میں میاں صاحب کی حکومت ختم کی‘ میاں صاحب نے فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا‘فاروق احمدلغاری نے 1996ء میں بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کی‘ وہ اچھے تھے‘ وہی فاروق لغاری میاں صاحب سے الجھ پڑے وہ برے ہو گئے‘ آپ کسی دن میاں صاحب کی پوری فلم دیکھ لیں‘ آپ کو محسوس ہو گا جہاں جہاں میاں صاحب کو فائدہ ہوتا رہا وہ فلم ٹھیک ٹھاک چلتی رہی اور جہاں نقصان ہوا وہ فلم فلاپ ہو گئی‘ وہ میاں صاحب جو آج اپنے کیس کے بارے میں کہتے ہیں( سمجھ نہیں آتی یہ کیس کیا ہے) یہ یوسف رضا گیلانی کے کیس کے بارے میں کہتے تھے (استعفیٰ دو‘ گھر جاؤ‘ ووٹ لو) پرانی فلمیں کیوں اچھی تھیں اور نئی فلم کیوں فلاپ ہے شاید پرانی فلموں کے ہیرو میاں صاحب خود ہوتے تھے چنانچہ وہ بہت اچھی چلتی تھیں اور یہ کیونکہ آج کی فلم کے ولن ہیں چنانچہ یہ فلم زبردستی چلائی جا رہی ہے۔ فلم آج بھی اچھی ہے‘ بس میاں صاحب کا وقت اچھا نہیں چل رہا‘ یہ وقت بدل گیا تو میا ں صاحب ۔۔انہی ڈائریکٹروں کی فلموں کو پسند کرنا شروع کر دیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں