21

بڑھاپے کی پنشن اور بوڑھے!





بزرگ پنشنر کی پوتی کا ایک خط شائع ہوا، اس میں ایسے سینئر سٹیزن، یعنی بزرگ ترین شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگرچہ بچی نے خط میں تو تحریر نہیں کیا،مگر احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے دادا کی مدد گار ہو گی اور بنک سے موبائل کمپنی کی فرنچائز تک ساتھ جاتی ہو گی۔خط کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو اس ملک میں بزرگوں کے احترام کا درس دیتے، ان کے لئے سہولتوں کا اعلان اور ذکر کرتے ہیں تو یہ سب زبانی، کلامی ہے، عمل بالکل نہیں ہوتا،بلکہ یہ معزز ترین شہری خوار ہوتے ہیں،پہلی شکایت تو یہ ہے کہ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی وبا کے اس دور میں پانچ ہزار دو سو پچاس روپے ماہوار پنشن بالکل ناکافی ہے، اتنی ناکافی کہ بیمار پنشنر کی دوا بھی نہیں آتی، چہ جائیکہ اس کے لئے کسی خوراک وغیرہ کا اہتمام ہو کہ جب سے مسلم لیگ(ن) کی حکومت آئی، پنشن میں نہ صرف یہ کہ کوئی اضافہ نہیں ہوا،بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پنشنر حضرات کی پنشنوں میں جو 10 فیصد سالانہ اضافہ کیا جاتا ہے۔(بجٹ میں ہر سال اعلان ہوتا ہے) وہ بھی نہیں ملتا، نتیجہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور میں جو پنشن بڑھا کر پانچ ہزار دو سو پچاس روپے کی گئی وہ تاحال جوں کی توں موجود ہے۔ سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار تو اس کے حوالے سے سوال تک کا جواب نہیں دیتے تھے اور سُنی اَن سُنی کر دیتے تھے۔ موجودہ حضرات نے بھی اب تک کوئی ذکر نہیں کیا۔

بچی کے خط کے دوسرے مندرجات کے مطابق ای او بی آئی سال میں دو بار پنشنر کے زندہ ہونے کی تصدیق کراتے ہیں اس کے لئے موبائل کمپنی کی ایک فرنچائز کو مقرر کیا گیا ہے، ہر پنشنر کے لئے لازم ہے کہ وہ یکم جنوری اور پھر یکم جولائی کو اس فرنچائز شاپ پر جا کر بائیو میٹرک تصدیق کرائے جو یہ ثابت کرنے کے لئے ہوتی ہے کہ موصوف تاحال زندہ ہیں اور ان کو پنشن ملتی رہنا چاہئے،اس موبائل فون فرنچائز کی شاپس بڑے شہروں میں فاصلے پر ہیں، چھوٹے شہروں یا قصبوں کا تو حال ہی بُرا ہے اور پھر جب سائل اس شاپ پر جاتا ہے تو اکثر یہ بتایا جاتا ہے کہ سسٹم کام نہیں کر رہا، پھر آئیں۔یوں بھی دکانیں کم ہوں تو قطار بھی لگتی ہے اور یہ انتظار بوڑھوں کے لئے مزید پریشانی کاباعث بنتا ہے۔ یہ مفت نہیں ہوتا، اس بائیو میٹرک تصدیق کے عوض 50 سے100روپے تک وصول کر لئے جاتے ہیں۔یہ فرنچائز والے مہربان پر منحصر ہے وہ کیا چارج کرتا ہے۔

یہ جو بڑھاپے کی پنشن ہے تو اس کا تعلق حکومت سے نہیں، نہ ہی سرکاری خزانے سے کچھ جاتا ہوتا ہے،یہ رقوم ان اداروں سے کٹوتی کے ذریعے ملتی ہیں،جو ای او بی آئی میں قانوناً رجسٹر ہوتے ہیں اور انسٹی ٹیوشن والے ان سے ہر ماہ وصول کرتے ہیں،یہ ادارے ان محنت کش حضرات کے لئے رقوم دیتے ہیں جو ان کے اداروں میں خون پسینہ بہا کر ریٹائر ہوتے ہیں، اس کے انتظام کے لئے ایک خود مختار ادارہ قائم کیا گیا جسے ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن کہتے ہیں،اس ادارے کے پاس اربوں روپے جمع ہوئے جو حقیقتاً امانت ہیں، لیکن روایت کے مطابق اس امانت میں جی بھر کر خیانت ہوئی۔ خود وفاقی حکومت نے قریباً 22 ارب روپے سے زائد دینا ہیں اور عدالت عظمیٰ کی طرف سے سخت ہدایت کے باوجود ابھی تک ادا نہیں کئے گئے۔ اسی طرح نیب کے پاس اس ادارے سے غبن اور خورد برد کے کیس بھی ہیں اور یہ اربوں روپے ہی کے ہیں، خاص طور پر اس ادارے کی رقوم سے سستی اراضی بہت مہنگے داموں خریدی گئی اور کئی فریقوں نے فائدہ اٹھایا، معاملہ عدالت عظمیٰ تک گیا اور فاضل جج صاحبان کی گہری دلچسپی کے باوجود ابھی تک کوئی حل سامنے نہیں آیا، آج نہ تو پنشن میں اضافہ ہوا اور نہ ہی بزرگوں کی پریشانی میں کوئی کمی ہوئی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران کئی بار یہ سوال اٹھایا گیا کہ اتنی کم پنشن میں گزارہ کیسے ممکن ہے؟اور پھر جو رقوم مختص ہی ان ’’سینئر سٹیزن‘‘ کے لئے کی گئی ہیں ان کو خورد برد کرتے وقت اللہ کا خوف بھی نہیں آیا کہ ایک روز یہ بھی تو بوڑھے ہو کر اس مقام تک آئیں گے۔
بزرگ شہریوں کو یہ پنشن اب ایک بنک کے ذریعے ملتی ہے، جس کی طرف سے اے ٹی ایم کارڈ جاری کر دیئے گئے ہیں، مجموعی طور پر یہ پنشن ہر ماہ کی یکم تک جمع ہو جاتی ہے اور موبائل میسج آ جاتا ہے تاہم بعض برانچوں کے حوالے سے شکایت بھی ہے کہ پنشن کی اطلاع اور پنشن بھی نہیں آتی،اِس لئے اس نظام پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پنشنر حضرات اب پھر وفاقی حکومت سے توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ اسی ماہ نئے سال کے لئے جو بجٹ پیش ہو گا، اس میں تو پنشن میں معتدبہ اضافہ کر دیا جائے گا کہ یہ تو الیکشن کا سال ہے، یہ بوڑھے لوگ احتجاج کے طور پر ووٹ نہ دینے کی مہم بھی تو چلا سکتے ہیں،ویسے یہ سب زیادہ توقع عدالت عظمیٰ سے لگائے بیٹھے ہیں کہ قسمت یاور ہوئی تو وہاں سے ریلیف ملے گی۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں